بھارتی نجی چینل ’’اے بی پی نیوز ‘‘ کے مطابق جنوبی دہلی کے سرکاری ہسپتال کی لیباٹری کے ڈارک روم میں بطور ٹرینی آنے والی 21سالہ لڑکی کو لیباٹری کے اسٹنٹ کرشن پال اور دھرم سنگھ نے نوکری دلانے کے نام پر لڑکی کو ورغلایا اور اسے بے آبرو کر دیا ،بعد ازاں ملزموں نے لرکی کو مجبور کیا کہ وہ اسی ہسپتال کے ڈاکٹر افضل خان اور مالی کا کام کرنے والے سریندر سنگھ کے ساتھ بھی’’تعلق ‘‘ قائم کرے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے ساتھ ہسپتال کے ڈاکٹر اور سریندر نے گزشتہ ماہ زبر دستی عصمت دری کی گئی ،جبکہ نوکری کے حصول کے لئے لڑکی سے اس 4رکنی گینگ نے 25ہزار روپے بھی ہتھیا لئے ،یہ گینگ ایک ماہ تک مسلسل لڑکی کو بے آبرو کرتا رہا ،ایک ماہ تک استحصال کا شکار ہونے والی متاثرہ نوجوان لڑکی نے پولیس سے رابطہ کیا جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے ڈاکٹر خان اور کرشن پال کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ سریندر اور دھرم سنگھ تاحال مفرور ہیں ۔پولیس کا کہنا کہ کہ وہ دونوں مفرور ملزموں کے مبینہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہے ہیں ،جلد ہی انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا ۔دوسری طرف اس شرمناک واقعہ کے بعد علاقے میں کافی اشتعال پایا جا رہا ہے جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں ،ان ملزموں کے خلاف جلد ہی چارج شیٹ فائل کر دی جائے گی ۔