جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے زیر انتظام گلوبل میڈیا فورم 2019 کا آغاز ہوگیا ہے۔ جرمنی میں ذرائع ابلاغ کے شعبے کے بڑے بین الاقوامی اجتماع کا اس سال کا عنوان ’’طاقت کی منتقلی‘‘ ہے جس کا عنوان سماجی اور سیاسی شعبے کے ساتھ ساتھ میڈیا میں اصل طاقت کس کے پاس ہے؟
فورم کے منتظمین کا خیال ہے کہ بہت سے علاقوں میں ڈیجیٹلائزیشن کے باعث ہونے والی ترقی کی وجہ سے ذرائع ابلاغ، سیاست اور سماجی شعبوں کے درمیان روابط میں تبدیلی آئی ہے۔ اطلاعات اور خبروں کو قابوکرنا ایک طاقت ور آلہ بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہت سے سیاستدان اپنے اپنے موقف کو حکومت کے زیر اثر چلنے والے سرکاری میڈیا کے توسط سے یا پھر سماجی ویب سائٹس پر جعلی خبروں کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔ گلوبل میڈیا فورم میں بنیادی تبدیلی کے اس عمل کے حوالےسے مزید آگہی اور شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
گلوبل میڈیا فورم میں جرمنی کے صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے براہ راست خطاب کیا اور ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبرگ کے ساتھ اس اجلاس کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر انڈیا ٹوڈے کے شریک بانی ارون پوری، گوگل کے مارک پیٹرز، جرمنی کے آکسیل سپرنگر نامی اشاعتی ادارے کے سربراہ ماتھیاس ڈؤفنر اور ڈیجیٹل شعبے کے امریکی ماہر ژارون لانیئر نے بھی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔
گلوبل میڈیا فورم میں دنیا بھر سے صحافیوں، میڈیا اور این جی اوز کے نمائندوں سمیت سیکڑوں مندوبین شریک ہیں۔ کل فورم کے دوسرے روز بھی مختلف موضوعات پر مباحث کا انعقاد کیا جائے گا۔