
کراچی (خالد زمان تنولی ) بااثر وڈیروں، جاگیرداروں، اسمگلروں اور لینڈ مافیا سرغنہ کی طرف سے غریب ماہی گیروں پر حملے کر کے قتل وغارت اور تشدد روز کا معمول بن چکا ہے۔ ساحلی پٹی کے علاقوں میں بڑے پیمانے لینڈ مافیا سرغنہ سمندری کناروں پر قبضے کر کے غیر مقامی افراد کو فروخت کر رہے ہیں، اگر کوئی لینڈ مافیا اس گرے ہوئے عمل کیخلاف آواز بلند کرتا ہے تو وہ ان کے دشمن بن کر قتل عام پر اُتر آتے ہیں۔ پاکستان فشر فوک فورم نے ہمیشہ غریب ماہی گیروں کے حقوق کیلئے مضبوط آواز بلند کی ہے اور اس وقت بھی کراچی کی ساحلی پٹی پر آباد ماہی گیر بستی ریڑھی گوٹھ کے غریب ماہی گیروں کے ساتھ سمندری وڈیرے اور لینڈ مافیا سرغنہ داؤد جت کی طرف سے جاری ظلم و بربریت کیخلاف بھی ان کی جدوجہد میں برابر کی شریک ہے۔ اگر حکومت نے شہید ماہی گیر کو انصاف فراہم نہیں کیا تو اگلے ماہ ریڑھی گوٹھ سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک پیدل مارچ کر کے انصاف کا مطالبہ کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے پریس کلب کراچی کے سامنے ریڑھی گوٹھ کے ماہی گیروں کے ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی مظاہرین فورا چوک سے ریلی کی صورت میں پریس کلب کراچی کے سامنے پہنچے۔ اس موقع پر مظاہرین کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھے اور وہ ’’قاتل قاتل سمندری وڈیرے قاتل، سمندر میں ماہی گیروں پر مسلح حملے نامنظور، ماہی گیروں کا قتل عام بند کرو، ساحلی پٹی پر لینڈ مافیا کے قبضے نامنظور، شہید ماہی گیر عثمان کے قاتلوں کو گرفتار کرو‘‘جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ جبکہ احتجاجی مظاہرے کی قیادت پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ، کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری طالب کچھی، شہید ماہی گیر کی ماں خدیجہ، حاجی احمد، حمزہ قاسمانی، مصطفی قاسمانی و دیگر کر رہے تھے۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں محمد علی شاہ نے مزید کہا کہ مذکورہ قاتل سمندری وڈیروں نے نہ صرف غریب ماہی گیروں سے ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے، بلکہ الیاس جت گوٹھ، چشمہ گوٹھ اور ریڑھی گوٹھ سمیت دیگر ماہی گیر آبادیوں میں سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے غیر قانونی پلاٹنگ اور جیٹیاں قائم کر کے منی سی ویو بھی تیار کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام غیر قانونی عمل میں بدنام زمانہ اسمگلر اور سمندری وڈیرے داؤد جت کو محکمہ روینیو، اینٹی انکروچمنٹ عملداروں اور بااثر سیاسی شخصیات کی پذیرائی حاصل ہے، جو انہیں سرکاری زمینوں کے جھوٹے کاغذات بناکر دینے کے عمل میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا سرغنہ اور بااثر سمندری وڈیرہ دھن اور دولت کی حرس میں اس قدر اندھا ہوچکا ہے کہ اُس نے ان کے غیر قانونی عمل کیخلاف آواز بلند کرنے والے 10 سے زائد ماہی گیروں کو شہید کروادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری وڈیرے کی طرف سے ریڑھی گوٹھ کے ماہی گیروں کے گھروں پر مسلح حملے اور جھوٹے مقدمات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں سمندری وڈیرے کی طرف سے سمندر میں اپنے مسلح افراد کے ہاتھوں حملہ کرواکر ایک ماہی گیر عثمان کو شہید کردیا تھا اور اس واقعہ کے کچھ ہی روز بعد ان کی والدہ پر سیشن کورٹ ملیر میں جھوٹی پٹیشن دائر کرائی گئی تھی، جسے فاضل جج کی طرف سے جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی سمندری وڈیرے کے چمچے اور کارندے ریڑھی گوٹھ کے غریب ماہی گیروں کو جدوجہد سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں سخت نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ محمد علی شاہ نے کہا کہ شہید ماہی گیر عثمان قاسمانی کے قتل کی ایف آئی آر ڈاکس تھانہ پر درج کرائی گئی ہے، لیکن تاحال پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کی دعوتیں قبول کی جارہی ہیں، جس سے صاف ظاہر ہے کہ ڈاکس تھانہ کی تحقیقاتی ٹیم شہید ماہی گیر عثمان کا خون ڈبونے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز قاتل سمندری وڈیرے کے حامیوں کی طرف سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریڑھی گوٹھ کے غریب ماہی گیروں کو منشیات فروش ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ نادان یہ بھول بیٹھے ہیں کہ سندھ کی ساحلی پٹی پر سب سے بڑا اسمگلر داؤد جت ہی ہے اور ریڑھی گوٹھ سمیت مختلف علاقوں میں داؤد جت کے کارندے ہی منشیات کا دھندا چلا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ پولیس اور چیئرمین نیب سے مطالبہ کیا کہ سمندری وڈیرے، لینڈ مافیا سرغنہ اور اسمگلر داؤد جت کیخلاف تحقیقات کر کے انہیں قانون کے کٹہڑے میں کھڑا کیا جائے۔ اس موقع پر شہید ماہی گیر کی والدہ خدیجہ نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہم غریب ماہی گیر ہیں اور مچھلی کا شکار کر کے اپنے بچوں کا گذر بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر گذشتہ چار دہائیوں سے اسمگلر و سمندری وڈیرے داؤد جت اور ان کے حامیوں نے مظالم کی انتہا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری وڈیرے نے ہمیں صرف اس لئے اپنے ظلم کا نشانہ بنا رکھا ہے کہ ہم ان کے یزیدی کردار کے سامنے جھکنے کی بجائے موت کو گلے سے لگانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظالم اسمگلر کے حملوں کی وجہ سے ہمارے بچے تعلیم حاصل کرنے سے بھی محروم رہے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ خدا را مجھ غریب ماہی گیر عورت کے شہید بچے سے انصاف کیا جائے